دست بوسی
معنی
١ - ہاتھ چومنا یا دوسرے آداب حاضری بجا لانا۔ "یہ سجدہ تعظیمی تھا جو ان کی شعریعت میں سلام، مصافحہ اور دست بوسی کا درجہ رکھتا تھا اور جائز تھا۔" ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٣١:١ )
اشتقاق
فارسی زبان سے اسم جامد 'دَسْت' کے ساتھ 'بوسیدن' مصدر سے فعل امر 'بوس' لگا کر آخر پر 'ی' بطور لاحقۂ کیفیت لگائی گئی ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ہاتھ چومنا یا دوسرے آداب حاضری بجا لانا۔ "یہ سجدہ تعظیمی تھا جو ان کی شعریعت میں سلام، مصافحہ اور دست بوسی کا درجہ رکھتا تھا اور جائز تھا۔" ( ١٩٦٩ء، معارف القرآن، ١٣١:١ )